فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
آراستہ ہیں بہر سفر، سروِ قبا پوشعمامے سروں پر ہیں عبائیں بسر دوشیارانِ وطن ہوتے ہیں آپس میں ہم آغوشحیراں کوئی تصویر کی صورت کوئی خاموشمنہ ملتا ہے رو کر کوئی سرور کے قدم پرگر پڑتا ہے کوئی علیؔ اکبر کے قدم پر
About this couplet
This is couplet 2 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۲ / ۱۱۴