فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

کہہ کر یہ سخن بیٹھ گئے سید خوش خواور سورۂ الحمد پڑھا تھام کے بازوبیمار نے پائی گلِ زہراؔ کی جو خوش بوآنکھوں کو تو کھولا پہ ٹپکنے لگے آنسوماں سے کہا مجھ میں جو حواس آئے ہیں اماںکیا میرے مسیحا مرے پاس آئے ہیں اماں

About this couplet

This is couplet 29 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۲۹ / ۱۱۴