فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

پاس آن کے اکبرؔ نے یہ کی پیار کی تقریرکیا مجھ سے خفا ہوگئیں صغراؔ مری تقصیرچلانے لگی، چھاتی پہ منہ رکھ کے، وہ دلگیرمحبوب برادر ترے قربان یہ ہمشیرصدقے ترے سر پر سے اتارے مجھے کوئیبل کھائی ہوئی زلفوں پہ وارے مجھے کوئی

About this couplet

This is couplet 48 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۴۸ / ۱۱۴