فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
مرنا تو مقدم ہے، غم اس کا نہیں زنہارڈھڑکا ہے کہ جب ہوں گے عیاں موت کے آثارقبلہ کی طرف، کون کرے گا رخِ بیماریٰسین بھی پڑھنے کو نہ ہوگا کوئی غم خوارسانس اکھڑے گی جس وقت تو فریاد کروں گیمیں ہچکیاں لے لے کے تمہیں یاد کروں گی
About this couplet
This is couplet 54 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۴ / ۱۱۴