فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے
میں صدقے گئی بس نہ کرو گریہ و زاریاصغرؔ مرا روتا ہے صدا سن کے تمہاریوہ کانپتے ہاتھوں کو اٹھا کر یہ پکاریآ آ مرے ننھے سے مسافر ترے واریچھٹتی ہے یہ بیمار بہن جان گئے تماصغرؔ مری آواز کو پہچان گئے تم
About this couplet
This is couplet 56 of 114 in “فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (کلامِ انیس).
Read it in the poem۵۶ / ۱۱۴