فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

ہے جب سے کھلا حالِ سفر بند ہے بازاریہ جنسِ غم ارزاں ہے کہ روتے ہیں دکاں دارخاک ارتی ہے ویرانیِ یثرب کے ہیں آثارہر کوچے میں ہے شور، کہ ہے ہے شہِ ابراراب یاں کوئی والی نہ رہا آہ ہماراجاتا ہے مدینے سے شہنشاہ ہمارا

About this couplet

This is couplet 7 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۱۴