فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

اس ذکر پہ رویا کیے شہہ سر کو جھکائےواں سے جو اٹھے فاطمہؔ کی قبر پہ آئےپائینِ لحد گر کے بہت اشک بہائےآواز یہ آئی کہ میں صدقے مرے جائےہے شور ترے کوچ کا جس دن سے وطن میںپیارے میں اسی دن سے تڑپتی ہوں کفن میں

About this couplet

This is couplet 74 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۷۴ / ۱۱۴