فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے

غربت میں نہ ماتم کی سنائے خبر اللہطاری ہوا حضرت پہ عجب صدمۂ جانکاہگوندھے ہوئے سر کھول کے پیٹے حرمِ شاہفرماتے تھے شہ سب کو ہے درپیش یہی راہہو گا وہی اللہ کو جو مدِ نظر ہےآج ان کا ہوا کوچ، کل اپنا بھی سفر ہے

About this couplet

This is couplet 97 of 114 in “⁨فرزند پیمبر کا مدینے سے سفر ہے⁩” in the section Masnavis, marsiyas and other forms, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۹۷ / ۱۱۴