کلامِ انیسرباعیات
تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجاد
۱
تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجادشب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجادجب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھاچالیس برس باپ کو روئے سجاد
۱۵ / ۹۰
کلامِ انیسرباعیات
تھے زیست سے اپنی ہاتھ دھوئے سجادشب کو کبھی راحت سے نہ سوئے سجادجب تک جیے ہنستے نہ کسی نے دیکھاچالیس برس باپ کو روئے سجاد
۱۵ / ۹۰