کلامِ انیسرباعیات
اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشک
۱
اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشکاللہ ہے مشتری وہ گوہر ہیں یہ اشکآنکھوں سے لگا کے ان کو کہتے ہیں ملکگوہر نہیں نور چشم کوثر ہیں یہ اشک
۳۴ / ۹۰
کلامِ انیسرباعیات
اختر سے بھی آبرو میں بہتر ہے یہ اشکاللہ ہے مشتری وہ گوہر ہیں یہ اشکآنکھوں سے لگا کے ان کو کہتے ہیں ملکگوہر نہیں نور چشم کوثر ہیں یہ اشک
۳۴ / ۹۰