ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک

ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تکقربان شہہ جن و بشر ہیں اب تکہوتے ہیں علم آگے جب اٹھتی ہے ضریحعباس علی سینہ سپر ہیں اب تک

About this couplet

This is couplet 1 of 1 in “⁨ظاہر وہی الفت کے اثر ہیں اب تک⁩” in the section Rubaiyat, from Mir Babar Ali Anis's Urdu book Kalam-e-Anis (⁨کلامِ انیس⁩).

Read it in the poem

۱ / ۱