کلامِ آتشردیف الف
اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا
۱
اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہابے اجل واں ایک دو ہر رات مر جاتا رہا
۲
کوئے جاناں میں بھی اب اس کا پتہ ملتا نہیںدل مرا گھبرا کے کیا جانے کدھر جاتا رہا
۳
جانب کہسار جا نکلا جو میں تو کوہ کناپنا تیشہ میرے سر سے مار کر جاتا رہا
۴
نے کشش معشوق میں پاتا ہوں نے عاشق میں جذبکیا بلا آئی محبت کا اثر جاتا رہا
۵
واہ رے اندھیر بہر روشنیٔ شہر مصردیدۂ یعقوب سے نور نظر جاتا رہا
۶
نشہ ہی میں یا الٰہی میکشوں کو موت دےکیا گہر کی قدر جب آب گہر جاتا رہا
۷
اک نہ اک مونس کی فرقت کا فلک نے غم دیادرد دل پیدا ہوا درد جگر جاتا رہا
۸
حسن کھو کر آشنا ہم سے ہوا وہ نونہالپہنچے تب زیر شجر ہم جب ثمر جاتا رہا
۹
رنج دنیا سے فراغ ایذا دہندوں کو نہیںکب تپ شیرا اتری کس دن درد سر جاتا رہا
۱۰
فاتحہ پڑھنے کو آئے قبر آتشؔ پر نہ یاردو ہی دن میں پاس الفت اس قدر جاتا رہا
۳ / ۱۰۵