کلامِ آتشردیف الف

آگ پر رشک سے میں چاک گریباں لوٹا

۱

آگ پر رشک سے میں چاک گریباں لوٹاخاک پر وقت خرام اس کا جو داماں لوٹا

۲

دل کو از بسکہ جو لاگ ابرائے خم دار سے تھیدم شمشیر کو میں دیکھ کے عریاں لوٹا

۳

حق بجانب ہے جو موسیّ کو نہ ہو تاب جمالتجھ کو نادیدہ دل گبر مسلماں لوٹا

۴

عید قرباں جو قریب آئی تو کچھ دل میں سمجھپاون پر آکے مرے حاجب زنداں لوٹا

۵

مرغ بسلم کی طرح تڑپے ہزاروں دل زارہنستے ہنستے جو کبھی وہ گل خنداں لوٹا

۶

میں نے آتش جو کیا نالہ در جاناں پردونوں ہاتھوں سے جگر تھام کے درباں لوٹا

۴ / ۱۰۵