حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا

نہیں مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہیںرہے گا پائے بت پر نقش اپنی جبہہ سائی کا

About this couplet

This is couplet 10 of 14 in “⁨حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (⁨کلامِ آتش⁩).

Read it in the poem

۱۰ / ۱۴