کلامِ آتشردیف الف
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کا
حباب آسا میں دم بھرتا ہوں تیری آشنائی کانہایت غم ہے اس قطرے کو دریا کی جدائی کا
اسیر اے دوست تیرے عاشق و معشوق دونوں ہیںگرفتار آہنی زنجیر کا یہ وہ طلائی کا
تعلق روح سے مجھ کو جسد کا نا گوارا ہےزمانے میں چلن ہے چار دن کی آشنائی کا
فراق یار میں مر مر کے آخر زندگانی کےرہا صدمہ ہمیشہ روح و قالب کی جدائی کا
ہوئی منظور محتاجی نہ تجھ کو اپنی سائل کےبنایا کاسۂ سر واژگوں کاسہ گدائی کا
نظر آتی ہیں ہر سو صورتیں ہی صورتیں مجھ کوکوئی آئینہ خانہ کارخانہ ہے جدائی کا
وصال یار کا وعدہ ہے فردائے قیامت پریقیں مجھ کو نہیں ہے گور تک اپنی رسائی کا
بھروسہ آہ پر ہرگز نہیں اے یار عاشق کوشکار اب تک کہیں دیکھا نہیں تیر ہوائی کا
دکھایا حسن سے اعجاز موسی کلک قدرت نےید بیضا بنایا چور انگشت حنائی کا
نہیں مٹتی ہے پتھر کی لکیر احباب کہتے ہیںرہے گا پائے بت پر نقش اپنی جبہہ سائی کا
شکست خاطر احباب ہوتی ہے درست اس سےتوجہ میں تری اے یار اثر ہے مومیائی کا
دل اپنا آئینہ سے صاف عشق پاک رکھتا ہےتماشا دیکھتا ہے حسن اس میں خود نمائی کا
کف افسوس ملواتی ہے تیری پاک دامانیپنہا کر شاہد عصمت کو جامہ پارسائی کا
نہیں دیکھا ہے لیکن تجھ کو پہچانا ہے آتشؔ نےبجا ہے اے صنم جو تجھ کو دعویٰ ہے خدائی کا
۱۵ / ۱۰۵