کلامِ آتشردیف الف

بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیا

۱

بلبل گلوں سے دیکھ کے تجھ کو بگڑ گیاقمری کا طوق سرو کی گردن میں پڑ گیا

۲

چیں بر جبیں نہ اے بت چین رہ غرور سےتصویر کا ہے عیب جو چہرہ بگڑ گیا

۳

آئی تو ہے پسند اسے چال یار کیسن لیجو پاؤں کبک دری کا اکھڑ گیا

۴

پیچھے ہٹا نہ کوچۂ قاتل سے اپنا پاؤںسر سے تڑپ کے چار قدم آگے دھڑ گیا

۵

کھینچی جو میری طرح سے قمری نے آہ سردجاڑے کے مارے سرو چمن میں اکڑ گیا

۶

شیریں کے شیفتہ ہوئے پرویز و کوہ کنشاعر ہوں میں یہ کہتا ہوں مضمون لڑ گیا

۷

اللہ رے شوق اپنی جبیں کو خبر نہیںاس بت کے آستانہ کا پتھر رگڑ گیا

۸

درماں سے اور درد ہمارا ہوا دو چندمرہم سے داغ سینہ میں ناسور پڑ گیا

۹

گلدستہ بن کے رونق بزم شہاں ہواکوڑا جو اس فقیر کے تکیے سے جھڑ گیا

۱۰

نکلا نہ جسم سے دل نالاں شریک روحمنزل میں رنگ ناقہ سے اپنے بچھڑ گیا

۱۱

پہنچا مجاز سے جو حقیقت کی کنہ کویہ جان لے کہ راستے میں پھیر پڑ گیا

۱۲

فرقت کی شب میں زیست نے اپنی وفا نہ کیقبل سحر چراغ ہمارا نہ بڑھ گیا

۱۳

پاتا ہوں شوق وصل میں احباب کی کمیحسن و جمال یار میں کچھ فرق پڑ گیا

۱۴

لاشوں کو عاشقوں کے نہ اٹھو گلی سے یاربسنے کا پھر یہ گاؤں نہیں جب اجڑ گیا

۱۵

دیکھا تجھے جو خون شہیداں سے سرخ پوشترک فلک زمیں میں خجالت سے گڑ گیا

۱۶

برسوں کی راہ آ کے عزیزاں نکل گئےافسوس کارواں سے میں اپنے بچھڑ گیا

۱۷

آیا جو شرح لعل لب یار کا خیالجھنڈا قلم کا اپنے بدخشاں میں گڑ گیا

۱۸

میں نے لیا بغل میں پری رو وصال کودیو فراق کشتی میں مجھ سے بچھڑ گیا

۱۹

آتشؔ نہ پوچھ حال تو مجھ درد مند کاسینہ میں داغ داغ میں ناسور پڑ گیا

۱۷ / ۱۰۵