کلامِ آتشردیف الف
بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہوا
بلائے جاں مجھے ہر ایک خوش جمال ہواچھری جو تیز ہوئی پہلے میں حلال ہوا
گرو ہوا تو اسے چھوٹنا محال ہوادل غریب مرا مفلسوں کا مال ہوا
کمی نہیں تری درگاہ میں کسی شے کیوہی ملا ہے جو محتاج کا سوال ہوا
دکھا کے چہرۂ روشن وہ کہتے ہیں سر شاموہ آفتاب نہیں ہے جسے زوال ہوا
دکھا نہ دل کو صنم اتحاد رکھتا ہوںمجھے ملال ہوا تو تجھے ملال ہوا
بجھایا آنکھوں نے وہ رخ تلاش مضموں میںخیال یار مرا شعر کا خیال ہوا
ترے شہید کے جیب کفن میں اے قاتلگلال سے بھی ہے رنگ عبیر لال ہوا
بلند خاک نشینی نے قدر کی میریعروج مجھ کو ہوا جب کہ پائمال ہوا
غضب میں یار کے شان کرم نظر آئیبنایا سرو چراغاں جسے نہال ہوا
یقیں ہے دیکھتے صوفی تو دم نکل جاتاہمارے وجد کے عالم میں ہے جو حال ہوا
وہ ناتواں تھا ارادہ کیا جو کھانے کاغم فراق کے دانتوں میں میں خلال ہوا
کیا ہے زار یہ تیری کمر کے سودے نےپڑا جو عکس مرا آئینہ میں بال ہوا
دکھانی تھی نہ تمہیں چشم سرمگیں اپنینگاہ ناز سے وحشت زدہ غزال ہوا
دہان یار کے بوسہ کی دل نے رغبت کیخیال خام کیا طالب محال ہوا
رہا بہار و خزاں میں یہ حال سودے کابڑھا تو زلف ہوا گھٹ گیا تو خال ہوا
جنوں میں عالم طفلی کی بادشاہت کیکھلونا آنکھوں میں اپنی ہر اک غزال ہوا
سنا جمیل بھی تیرا جو نام اے محبوبہزار جان سے دل بندۂ جمال ہوا
لکھا ہے عاشقوں میں اپنے تو نے جس کا نامپھر اس کا چہرہ نہیں عمر بھر بحال ہوا
گنہ کسی نے کیا تھرتھرایا دل اپناعرق عرق ہوئے ہم جس کو انفعال ہوا
ترے دہان و کمر کا جو ذکر آیا یارگمان و وہم کو کیا کیا نہ احتمال ہوا
کمال کون سا ہے وہ جسے زوال نہیںہزار شکر کہ مجھ کو نہ کچھ کمال ہوا
تمہاری ابرو کج کا تھا دوج کا دھوکاسیاہ ہوتا اگر عید کا ہلال ہوا
دیا جو رنج ترے عشق نے تو راحت تھیفراق تلخ تو شیریں مجھے وصال ہوا
وہی ہے لوح شکست طلسم جسم آتشؔجب اعتدال ناصر میں اختلال ہوا
۱۸ / ۱۰۵