کلامِ آتشردیف الف
ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گا
ایسی وحشت نہیں دل کو کہ سنبھل جاؤں گاصورت پیرہن تنگ نکل جاؤں گا
وہ نہیں ہوں کہ رکھائی سے جو ٹل جاؤں گاآج جاتا تھا تو ضد سے تری کل جاؤں گا
شام ہجراں کسی صورت سے نہیں ہوتی صبحمنہ چھپا کر میں اندھیرے میں نکل جاؤں گا
کھینچ کر تیغ کمر سے کسے دکھلاتے ہوناف معشوق نہیں ہوں جو میں ٹل جاؤں گا
شب ہجر اپنی سیاہی کسے دکھلاتی ہےکچھ میں لڑکا تو نہیں ہوں کہ دہل جاؤں گا
کوچۂ یار کا سودا ہے مرے سر کے ساتھپاؤں تھک تھک کے ہوں ہر چند کہ شل جاؤں گا
ضبط بیتابیٔ دل کی نہیں طاقت باقیکوہ صبر اب یہ صدا دیتا ہے ٹل جاؤں گا
طالع بد کے اثر سے یہ یقیں ہے مجھ کوتیری حسرت ہی میں اے حسن عمل جاؤں گا
چار دن زیست کے گزریں گے تأسف میں مجھےحال دل پر کف افسوس میں مل جاؤں گا
شعلہ رویوں کو نہ دکھلاؤ مجھے اے آنکھوموم سے نرم مرا دل ہے پگھل جاؤں گا
حال پیری کسے معلوم جوانی میں تھاکیا سمجھتا تھا میں دو دن میں بدل جاؤں گا
وہی دیوانگی میری ہے بہار آنے دودیکھ کر لڑکوں کی صورت کو بہل جاؤں گا
شعر ڈھلتے ہیں مری فکر سے آج اے آتشؔمر کے کل گور کے سانچے میں میں ڈھل جاؤں گا
۱۹ / ۱۰۵