کلامِ آتشردیف الف
میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیا
۱
میں نے عریاں تجھے اے رشک قمر دیکھ لیادیدہ و دل کو جو تھا مد نظر دیکھ لیا
۲
نزع میں یار نے صورت نہ دکھائی مجھ کودشمن و دوست کو ہنگام سفر دیکھ لیا
۳
لے گئی وحشت دل گور غریباں کی طفہم نے یاران گزشتہ کا بھی گھر دیکھ لیا
۴
خوں کیا غیر کے دل کو مری جاں بازی نےیاد نے چیر کے پہلو کو جگر دیکھ لیا
۵
دہن یار سے اک شعر کسی دن نہ سنناہم نھے اس اپنی زباں کا بھی اثر دیکھ لیا
۶
بھر گیا دامن نظارہ گل نرگس سےآنکھ اٹھا کر جو کبھی تو نے ادھر دیکھ لیا
۷
روبرو رہنے لگا آئینہ آتش شب و روزیاد کو غیر سے بھی شیر و شکر دیکھ لیا
۲۳ / ۱۰۵