کلامِ آتشردیف الف

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا

۱

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلاکبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا

۲

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کاجو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا

۳

بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعرکمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا

۴

ہوا کون سا روز روشن نہ کالاکب افسانہ زلف شب گوں نہ نکلا

۵

پہنچتا اسے مصرع تازہ و ترقد یار سا سرو موزوں نہ نکلا

۶

رہا سال ہا سال جنگل میں آتشمرے سامنے بید مجنوں نہ نکلا

۲۴ / ۱۰۵