کلامِ آتشردیف الف

وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیدا

۱

وحشت دل نے کیا ہے وہ بیاباں پیداسیکڑوں کوس نہیں صورت انساں پیدا

۲

سحر وصل کرے گی شب ہجراں پیداصلب کافر ہی سے ہوتا ہے مسلماں پیدا

۳

دل کے آئینے میں کر جوہر پنہاں پیدادر و دیوار سے ہو صورت جاناں پیدا

۴

خار دامن سے الجھتے ہیں بہار آئی ہےچاک کرنے کو کیا گل نے گریباں پیدا

۵

نسبت اس دست نگاریں سے نہیں کچھ اس کویہ کلائی تو کرے پنجۂ مرجاں پیدا

۶

نشۂ مے میں کھلی دشمنی دوست مجھےآب انگور نے کی آتش پنہاں پیدا

۷

باغ سنسان نہ کر ان کو پکڑ کر صیادبعد مدت ہوئے ہیں مرغ خوش الحاں پیدا

۸

اب قدم سے ہے مرے خانۂ زنجیر آبادمجھ کو وحشت نے کیا سلسلہ جنباں پیدا

۹

رو کے آنکھوں سے نکالوں میں بخار دل کوکر چکے ابر مژہ بھی کہیں باراں پیدا

۱۰

نعرہ زن کنج شہیداں میں ہو بلبل کی طرحآب آہن نے کیا ہے یہ گلستاں پیدا

۱۱

نقش ان کا نہ کسی لعل سے لب پر بیٹھامیرے منہ میں ہوئے تھے کس لیے دنداں پیدا

۱۲

خوف نا فہمی مردم سے مجھے آتا ہےگاؤ خر ہونے لگے صورت انساں پیدا

۱۳

روح کی طرح سے داخل ہو جو دیوانہ ہےجسم خاکی سمجھ اس کو جو ہو زنداں پیدا

۱۴

بے حجابوں کا مگر شہر ہے اقلیم عدمدیکھتا ہوں جسے ہوتا ہے وہ عریاں پیدا

۱۵

اک گل ایسا نہیں ہووے نہ خزاں جس کی بہارکون سے وقت ہوا تھا یہ گلستاں پیدا

۱۶

موجد اس کی ہے سیہ روزی ہماری آتشؔہم نہ ہونے تو نہ ہوتی شب ہجراں پیدا

۲۶ / ۱۰۵