کلامِ آتشردیف الف

طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا

۱

طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیااندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیا

۲

گل سے جو سامنا ترے رخسار نے کیامژگاں نے وہ کیا کہ جو کچھ خار نے کیا

۳

ناز و ادا کو ترک مرے یار نے کیاغمزہ نیا یہ ترک ستم گار نے کیا

۴

افشاں سے کشتہ ابروئے خم دار نے کیاجوہر سے کام یار کی تلوار نے کیا

۵

قامت تری دلیل قیامت کی ہو گئیکام آفتاب حشر کا رخسار نے کیا

۶

میری نگہ کے رشک سے روزن کو چاندیرخنہ یہ قصر یار کی دیوار نے کیا

۷

سودائے زلف میں مجھے آیا خیال رخمشتاق روشنی کا شب تار نے کیا

۸

حسرت ہی بوسۂ لب شیریں کی رہ گئیمیٹھا نہ منہ کو تیرے نمک خوار نے کیا

۹

فرصت ملی نہ گریہ سے اک لحظہ عشق میںپانی مرے لہو کو اس آزار نے کیا

۱۰

سیماب کی طرح سے شگفتہ ہوا مزاجاکسیر مجھ کو میرے خریدار نے کیا

۱۱

قد میں تو کر چکا تھا وہ احمق برابریمجبور سرو کو تری رفتار نے کیا

۱۲

حیرت سے پا بہ گل ہوے روزن کو دیکھ کردیوار ہم کو یار کی دیوار نے کیا

۱۳

پتھر کے آگے سجدہ کیا تو نے برہمنکافر تجھے ترے بت پندار نے کیا

۱۴

کاوش مژہ نے کی رخ دلبر کی دید میںپائے نگاہ سے بھی خلش خار نے کیا

۱۵

عاشق کی طرح میں جو لگا کرنے بندگیآزاد داغ دے کے خریدار نے کیا

۱۶

اعجاز کا عجب لب جاں بخش سے نہیںپیغمبر اس کو مصحف رخسار نے کیا

۱۷

طرہ کی طرح سے دل عاشق کو پیچ میںکس کس لپیٹ سے تری دستار نے کیا

۱۸

آنکھوں کو بند کر کے تصور میں باغ کےگلشن قفس کو مرغ گرفتار نے کیا

۱۹

نالاں ہوا میں اس رخ رنگیں کو دیکھ کربلبل مجھے نظارۂ گل زار نے کیا

۲۰

ہکلا کے مجھ سے بات جو اس دل ربا نے کیکس حسن سے ادا اسے تکرار نے کیا

۲۱

الٹا ادھر نقاب تو پردے پڑے ادھرآنکھوں کو بند جلوۂ دیدار نے کیا

۲۲

لذت کو ترک کر تو ہو دنیا کا رنج دورپرہیز بھی دوا ہے جو بیمار نے کیا

۲۳

ناصاف آئینہ ہو تو بد تر ہے سنگ سےروشن یہ حال ہم کو جلاکار نے کیا

۲۴

حلقہ کی ناف یار کے تعریف کیا کروںگول ایسا دائرہ نہیں پرکار نے کیا

۲۵

دیوان حسن یار کی آتشؔ جو سیر کیدیوانہ بیت ابروئے خم دار نے کیا

۲۷ / ۱۰۵