ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا

جو سطر ہے وہ گیسوئے حور بہشت ہےخال پری ہے نقطہ ہماری کتاب کا

About this couplet

This is couplet 4 of 16 in “⁨ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (⁨کلامِ آتش⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۶