کلامِ آتشردیف الف
ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کا
ہے جب سے دست یار میں ساغر شراب کاکوڑے کا ہو گیا ہے کٹورا گلاب کا
صیاد نے تسلی بلبل کے واسطےکنج قفس میں حوض بھرا ہے گلاب کا
دریائے خوں کیا ہے تری تیغ نے رواںحاصل ہوا ہے رتبہ سروں کو حباب کا
جو سطر ہے وہ گیسوئے حور بہشت ہےخال پری ہے نقطہ ہماری کتاب کا
نو آسماں ہیں صفحۂ اول کے نو لغتکونین اک دو ورقہ ہے اپنی کتاب کا
اے موج بے لحاظ سمجھ کر مٹائیودریا بھی ہے اسیر طلسم حباب کا
بچھوائیے نہ چاندنی میں بام پر پلنگمنحوس ہے قران مہ و آفتاب کا
اک ترک شہسوار کی دیوانی روح ہےزنجیر میں ہمارے ہو لوہا رکاب کا
حسن و جمال سے ہے زمانے میں روشنیشب ماہتاب کی ہے تو روز آفتاب کا
اللہ رے ہمارا تکلف شب وصالروغن کے بدلے عطر جلایا گلاب کا
مسجد سے میکدے میں مجھے نشہ لے گیاموج شراب جادہ تھی راہ صواب کا
انصاف سے وہ زمزمہ میرا اگر سنےدم بند ہووے طوطیٔ حاضر جواب کا
الفت جو زلف سے ہے دل داغدار کوطاؤس کو یہ عشق نہ ہوگا سحاب کا
معمور جو ہوا عرق رخ سے وہ ذقنمضمون مل گیا مجھے چاہ گلاب کا
پاتا ہوں ناف کا کمر یار میں مقامچشمہ مگر عدم میں ہے گوہر کی آب کا
آتشؔ شب فراق میں پوچھوں گا ماہ سےیہ داغ ہے دیا ہوا کس آفتاب کا
۴۰ / ۱۰۵