جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے
مشتاق بندشوں کے ہیں خوابوں کو چاہئےبندھوائیں شاعروں سے جو ان کی کمر کھلے
About this couplet
This is couplet 21 of 24 in “جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (کلامِ آتش).
Read it in the poem۲۱ / ۲۴