کلامِ آتشردیف ے
جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلے
جوہر نہیں ہمارے ہیں صیاد پر کھلےلے کر قفس کو اڑ گئے رکھا جو پر کھلے
شیشے شراب کے رہیں آٹھوں پہر کھلےایسا گھرے کہ پھر نہ کبھی ابر تر کھلے
کچھ تو ہمیں حقیقت شمس و قمر کھلےکس کج کلہ کے عشق میں پھرتے ہیں سر کھلے
انصاف کو ہیں دیدۂ اہل نظر کھلےپردہ اٹھا کہ پردۂ شمس و قمر کھلے
رنگریز کی دکاں میں بھرے ہوں ہزار رنگطرہ وہ ہے جو یار کی دستار پر کھلے
کیا چیز ہے عبارت رنگیں میں شرح شوقخط کی طرح طبیعت بستہ اگر کھلے
جو چاہیں یار سے کہیں اغیار غم نہیںخواجہ کو ہیں غلام کے عیب و ہنر کھلے
حیواں پر آدمی کو شرف نطق سے ہواشکر خدا کرے جو زبان بشر کھلے
یوسف کی اک دکاں میں نہ تو نے تلاش کیبازار کون کون سے اے بے خبر کھلے
شیریں دہن سے تیرے تعجب ہے گفتگواعجاز ہے اگر گرہ نیشکر کھلے
کٹ جائے وہ زباں نہ ہو جس سے دعائے خیرپھوٹے وہ آنکھ جو کہ نہ وقت سحر کھلے
کوتہ ہے اس قدر مرے قد پر ردائے عیشڈھانکوں جو پاؤں کو تو یقیں ہے کہ سر کھلے
قاتل جزائے خیر ملے تیری تیغ کوزخموں کے منہ کھلے نہیں جنت کے در کھلے
فصل بہار آئی ہے چلتا ہے دور جاممغ کی دکان شام کھلے یا سحر کھلے
پاپوش ہم نے ماری ہے دستار و تاج پرسودائے زلف یار میں رہتے ہیں سر کھلے
کیف شراب ناب کا انجام ہو بخیرشلوار بند ساقیٔ رشک قمر کھلے
نا خواندہ شرح شوق جلائے گئے خطوطباندھے گئے وہ جو کہ مرے نامہ بر کھلے
چاہے صفا تو ساتھ طہارت کے ذکر کرپرہیز کر تو تجھ کو دوا کا اثر کھلے
ہنس کر دکھائے دانت جو ہم کو تو کیا ہوالے لیجئے جو قیمت سلک گہر کھلے
کہتا ہوں راز عشق مگر ساتھ شرط کےکانوں ہی تک رہے نہ زباں کو خبر کھلے
مشتاق بندشوں کے ہیں خوابوں کو چاہئےبندھوائیں شاعروں سے جو ان کی کمر کھلے
رکتی نہ اس سے چوٹ نہ چلتی یہ قاتلاہاتھوں سے تیرے جوہر تیغ و سپر کھلے
مطلب نہ سر نوشت کا سمجھا تو شکر کردیوانہ ہو جو حال قضا و قدر کھلے
چلنا پڑے گا یار کی خدمت میں سر کے بلسمجھے ہو کیا جو بیٹھے ہو آتشؔ کمر کھلے
۷۴ / ۱۰۵