کلامِ آتشردیف ے

جاں بخش لب کے عشق میں ایذا اٹھائیے

۱

جاں بخش لب کے عشق میں ایذا اٹھائیےبیمار ہو کے ناز مسیحا اٹھائیے

۲

قدسی نگاہ لطف کے امیدوار ہیںآنکھیں تو سوئے عالم بالا اٹھائیے

۳

اب کے بہار میں جو ہمیں لے چلے جنوںچن چن کے داغ لالۂ صحرا اٹھائیے

۴

خامہ سے کام لیجئے ہنگام فکر شعرمیدان کارزار میں گھوڑا اٹھائیے

۵

دکھلائے حسن یار کا جلوہ ہمیں جو عشقکس کس طرح سے لطف تماشا اٹھائیے

۶

تجھ سا حسیں ہو یار تو کیوں کر نہ اس کے پھرناز بجا و غمزۂ بے جا اٹھائیے

۷

مفلس ہوں لاکھ پر یہی دل کو بندھی ہے دھنیوسف کو قرض لے کے تقاضا اٹھائیے

۸

فصل بہار آئی پیو صوفیو شراببس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے

۹

جام شراب ناب ہے ساقی لیے کھڑاگردن تو مثل گردن مینا اٹھائیے

۱۰

آواز کو سنا کے کئے کان مستفیضرحم آنکھوں پر بھی کیجئے پردا اٹھائیے

۱۱

جوش جنوں میں دیکھیے پیچھے نہ مڑ کے پھرمنہ جس طرف کو صورت دریا اٹھائیے

۱۲

شمشیر زن ہو یار بہادر جوان ہوآتشؔ جہاد عشق پہ بیڑا اٹھائیے

۷۵ / ۱۰۵