کلامِ آتشردیف ے

دل بہت تنگ رہا کرتا ہے

۱

دل بہت تنگ رہا کرتا ہےرنگ بے رنگ رہا کرتا ہے

۲

حسن میں تیرے کوئی عیب نہیںقبح میں دنگ رہا کرتا ہے

۳

صلح کی دل سے ہیں یاں مصلحتیںواں سر جنگ رہا کرتا ہے

۴

محتسب کو ترے مستانوں سےخوف سرچنگ رہا کرتا ہے

۵

دل مرا پی کے محبت کی شرابنشہ میں بھنگ رہا کرتا ہے

۶

فارسی عار ہے مجھ مجنوں کوننگ سے ننگ رہا کرتا ہے

۷

جوہر تیغ دکھاتا ہے حسنعشق چورنگ رہا کرتا ہے

۸

گفتنی حال نہیں ہے اپناکچھ عجب ڈھنگ رہا کرتا ہے

۹

حلب رخ میں ترے خالوں سےلشکر زنگ رہا کرتا ہے

۱۰

منزل گور کے دیوانوں کےسینہ پر سنگ رہا کرتا ہے

۱۱

عالم وجد ترے مستوں کوبے دف و چنگ رہا کرتا ہے

۱۲

فندق دست صنم سے نادمگل اورنگ رہا کرتا ہے

۱۳

تیرے گوش شنوا کا مشتاقہر خوش آہنگ رہا کرتا ہے

۱۴

بندش چست سے تیری آتشؔقافیہ تنگ رہا کرتا ہے

۷۷ / ۱۰۵