کلامِ آتشردیف ے

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہے

۱

اے صنم جس نے تجھے چاند سی صورت دی ہےاسی اللہ نے مجھ کو بھی محبت دی ہے

۲

تیغ بے آب ہے نے بازوئے قاتل کمزورکچھ گراں جانی ہے کچھ موت نے فرصت دی ہے

۳

اس قدر کس کے لیے یہ جنگ و جدل اے گردوںنہ نشاں مجھ کو دیا ہے نہ تو نوبت دی ہے

۴

سانپ کے کاٹے کی لہریں ہیں شب و روز آتیںکاکل یار کے سودے نے اذیت دی ہے

۵

آئی اکسیر غنی دل نہیں رکھتی ایساخاکساری نہیں دی ہے مجھے دولت دی ہے

۶

شمع کا اپنے فتیلہ نہیں کس رات جلاعمل حب کی بہت ہم نے بھی دعوت دی ہے

۷

جسم کو زیر زمیں بھی وہی پہونچا دے گاروح کو جس نے فلک سیر کی طاقت دی ہے

۸

فرقت یار میں رو رو کے بسر کرتا ہوںزندگانی مجھے کیا دی ہے مصیبت دی ہے

۹

یاد محبوب فراموش نہ ہووے اے دلحسن نیت نے مجھے عشق سے نعمت دی ہے

۱۰

گوش پیدا کیے سننے کو ترا ذکر جمالدیکھنے کو ترے، آنکھوں میں بصارت دی ہے

۱۱

لطف دل بستگیٔ عاشق شیدا کو نہ پوچھدو جہاں سے اس اسیری نے فراغت دی ہے

۱۲

کمر یار کے مضمون کو باندھو آتشؔزلف خوباں سی رسا تم کو طبیعت دی ہے

۷۸ / ۱۰۵