کلامِ آتشردیف ے
وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
وہی چتون کی خوں خواری جو آگے تھی سو اب بھی ہےتری آنکھوں کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
وہی نشو نمائے سبزہ ہے گور غریباں پرہوائے چرخ زنگاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
تعلق ہے وہی تا حال ان زلفوں کے سودے سےسلاسل کی گرفتاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
وہی سر کا پٹکنا ہے وہی رونا ہے دن بھر کاوہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
رواج عشق کے آئیں وہی ہیں کشور دل میںرہ و رسم وفا جاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
وہی جی کا جلانا ہے پکانا ہے وہی دل کاوہ اس کی گرم بازاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
نیاز خادمانہ ہے وہی فضل الٰہی سےبتوں کی ناز برداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
فراق یار میں جس طرح سے مرتا تھا مرتا ہوںوہ روح و تن کی بے زاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
وہی سودائے کاکل کا ہے عالم جو کہ سابق تھایہ شب بیمار پر بھاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
جنوں کی گرم جوشی ہے وہی دیوانوں سے اپنیوہی داغوں کی گلکاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
وہی بازار گرمی ہے محبت کی ہنوز آتشؔوہ یوسف کی خریداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
۸۱ / ۱۰۵