کلامِ آتشردیف ے
آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑے
۱
آبلے پاؤں کے کیا تو نے ہمارے توڑےخار صحرائے جنوں عرش کے تارے توڑے
۲
ذقن و رخ میں نہ جاسوسوں سے باقی رکھیثمر گل چمن حسن کے سارے توڑے
۳
سلسلہ اپنی گرفتاری کا کب قطع ہواپہنی پازیب انہوں نے جو اتارے توڑے
۴
مست مجھ سا بھی کوئی نشہ کا ہوگا نہ حریصپی کے مے جام کے دانتوں سے کنارے توڑے
۵
شربت وصل ہے تنقید کی خاطر موجودتپ ہجر آ کے بدن کو نہ ہمارے توڑے
۶
ختم دزدیدہ نگہ پر ہے تری طراریدل نہیں توڑے احبا کے پٹارے توڑے
۷
آ گیا وہ شجر حسن نظر جب ہم کوبوسہ لے کر لب شیریں کے چھوارے توڑے
۸
عشق بے درد سے کرنے کو کہا تھا کس نےسر کو ٹکرا کے نہ دل درد کے مارے توڑے
۹
کنج عزلت میں بٹھایا ہے خدا نے آتشؔاب جو تم یاں سے ہلے پاؤں تمہارے توڑے
۸۰ / ۱۰۵