کلامِ آتشردیف ے
طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کے
طاق ابرو ہیں پسند طبع اک دل خواہ کےعمر ہوتی ہے بسر گنبد میں بسم اللہ کے
جاؤں کیوں کر بن بلائے اس بت دل خواہ کےبے طلب کوئی نہیں پہونچا حضور اللہ کے
روئے نورانی کا تیرے ہو گیا ہے شک جو یاررات بھر دوڑا ہوں کیا کیا پیچھے پیچھے ماہ کے
شام وصل آئی ادھر موجود تھی صبح فراقکم گھڑی سے بھی پہر ہیں اس شب کوتاہ کے
داغ عشق حسن کا لقمہ نوالہ ہے کڑاسیر دل ہیں کھانے والے اس غم جاں کاہ کے
ناتوانی سے ہے حالت غیر ہجر یار میںدم نکل جاتا ہے اپنا ساتھ ہر اک آہ کے
عشق بت میں کوہ پر جا جا کے سر پٹکا کئےپاؤں کو صدمے رہے پست و بلند راہ کے
سالہا عشق زنخداں نے لہو پانی کیامدتوں روئے ہیں جا جا کر کنارے چاہ کے
حشر تک یوں ہی رہیں گے غمزہ و انداز و نازعشق عالی منزلت سے حسن والا جاہ کے
جا نکلتا ہے جو مجھ سا تشنۂ دیدار حسنذکر یوسف کرنے لگتے ہیں کبوتر چاہ کے
منزل مقصود میں چل کر نکالوں گا انہیںآبلوں میں یہ جو ہیں پیوست کانٹے راہ کے
اس بت بے دیں کی زلفوں کا اشارہ ہے یہیاس بلا میں وہ پھنسیں عاشق ہوں جو اللہ کے
کب سمائی ہے نظر میں روشنیٔ آفتابچشم بینا رکھتے ہیں ذرے تری درگاہ کے
۸۳ / ۱۰۵