کلامِ آتشردیف ے
شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہے
شہرۂ آفاق مجھ سا کون سا دیوانہ ہےہند میں میں ہوں پرستاں میں مرا افسانہ ہے
صید گاہ مرغ دل رخسارۂ جانانہ ہےدام زلف عنبریں ہے خال مشکیں دانہ ہے
حسن سے رتبہ ہے اپنے عشق کامل کا بلندآستانہ پر پری ہے بام پر دیوانہ ہے
اس میں رہتا ہے صفائے روئے جاناں کا خیالدل نہیں پہلو میں اپنے آئینہ کا خانہ ہے
بیچتا ہوں دل کو جو محبوب چاہے مول لےبوسہ قیمت ہے توجہ کی نظر بیعانہ ہے
پھوٹیں وہ آنکھیں نگاہ بد سے جو دیکھیں تجھےآتشیں رخسار مجمر خال کالا دانہ ہے
روز و شب اس شمع رو کو بھیجتا ہوں خط شوقنامہ بر دن کو کبوتر رات کو پروانہ ہے
خار خار دل غنیمت جانتا ہوں عشق میںزلف دود آہ کی آراستگی کاشانہ ہے
شرح لکھا چاہئے اس کی بیاض صبح پرمطلع خورشید بیت ابرو جانانہ ہے
حالت آئینہ رکھتا ہے صفا سے دل مراآشنا سے آشنا بیگانہ سے بیگانہ ہے
قتل سے مجھ سخت جاں کے منکر اے قاتل نہ ہوحجت قاطع تری تلوار کا دندانہ ہے
واسطے ہر شے کے دنیا میں مقرر ہیں محلشہر میں جب تک ہے مجنوں گنج بے ویرانہ ہے
باغ عالم میں نہیں اس شوخ سا کوئی حسیںگل ہے اپنا یار یوسف سبزۂ بیگانہ ہے
اب نہیں اے یار جوبن کو ترے بیم زوالخط مشکیں حسن کی جاگیر کا پروانہ ہے
حال ہے جس کا اسی کے واسطے ہے خوش نمانقص ہے تلوار کا وصف ارہ کا دندانہ ہے
یار کھینچے تیغ تیرے قتل کرنے کے لیےسر جھکا آتشؔ یہ جائے سجدۂ شکرانہ ہے
۸۴ / ۱۰۵