نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے

گفت و شنید میں ہوں بسر دن بہار کےگل کے لیے ہے گوش زباں خار کے لیے

About this couplet

This is couplet 13 of 36 in “⁨نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (⁨کلامِ آتش⁩).

Read it in the poem

۱۳ / ۳۶