کلامِ آتشردیف ے
نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے
نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیےورنہ کوئی نقاب نہیں یار کے لیے
نور تجلی ہے ترے رخسار کے لیےآنکھیں مری کلیم ہیں دیدار کے لیے
فدیے بہت اس ابروئے خم دار کے لیےچو رنگ کی کمی نہیں تلوار کے لیے
قول اپنا ہے یہ سبحہ و زنار کے لیےدو پھندے ہیں یہ کافر و دیں دار کے لیے
لطف چمن ہے بلبل گل زار کے لیےکیفیت شراب ہے مے خوار کے لیے
سیری نہ ہوگی تشنۂ دیدار کے لیےپانی نہیں چہ ذقن یار کے لیے
اتنی ہی ہے نمود میری یار کے لیےشہرہ ہے جس قدر مرے اشعار کے لیے
دشت عدم سے آتے ہیں باغ جہاں میں ہمبے داغ لالہ و گل بے خار کے لیے
شمشاد اپنے ترے کو بیچے تو لیجئےاس لالہ رو کی لپٹتی دستار کے لیے
دو آنکھیں چہرے پر نہیں تیرے فقیر کےدو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لیے
سرمہ لگایا کیجیے آنکھوں میں مہرباںاکسیر یہ سفوف ہے بیمار کے لیے
حلقہ میں زلف یار کی موتی پروئیےدنداں ضرور ہیں دہن مار کے لیے
گفت و شنید میں ہوں بسر دن بہار کےگل کے لیے ہے گوش زباں خار کے لیے
بے یار سر پٹکنے سے ہلتا ہے گھر مرارہتا ہے زلزلہ در و دیوار کے لیے
بیٹھا جو اس کے سایہ میں دیوانہ ہو گیاسایہ پری کا ہے تری دیوار کے لیے
بلبل ہی کو بہار کے جانے کا غم نہیںہر برگ ہاتھ ملتا ہے گل زار کے لیے
اے شاہ حسن زلف و رخ و گوش چشم و لبکیا کیا علاقے ہیں تری سرکار کے لیے
چال ابر کی چلا جو گلستاں میں جھوم کرطاؤس نے قدم ترے رہوار کے لیے
آیا جو دیکھنے ترے حسن و جمال کوپکڑا گیا وہ عشق کے بیگار کے لیے
حاجت نہیں بناؤ کی اے نازنیں تجھےزیور ہے سادگی ترے رخسار کے لیے
بیمار تندرست ہو دیکھے جو روئے یارکیا چاشنی ہے شربت دیدار کے لیے
اس بادشاہ حسن کی منزل میں چاہئےبال ہما کی پر چھتی دیوار کے لیے
سودائے زلف یار میں کافر ہوا ہوں میںسنبل کے تار چاہئیں زنار کے لیے
زنجیر و طوق جو کہ ہے بازار دہر میںسودا ہے اس پری کے خریدار کے لیے
چونا بنیں گے بعد فنا اپنے استخواںدولت سرائے یار کی دیوار کے لیے
معشوق کی زبان سے ہے دشنام دل پذیرشیرینی زہر ہے تری گفتار کے لیے
جان سے عزیز تر ہے مرے دل کو داغ عشقمہتاب لحد کی شب تار کے لیے
وہ مست خواب چشم ہے کوئی بلائے بدکیا مرتبہ ہے فتنۂ بیدار کے لیے
خلوت سے انجمن کا کہاں یار کو دماغوہ جنس بے بہا نہیں بازار کے لیے
پہنا ہے جب سے تو نے شب ماہ میں اسےکیا کیا شگوفے پھولتے ہیں ہار کے لیے
چھکڑا ہوے ہیں سوچ کے راہ وفا میں پاؤںپہیے لگائیے انہیں رفتار کے لیے
جو مشتری ہے بندہ ہے اس خوش جمال کایوسف بنے غلام خریدار کے لیے
سونے کے پتے ہوویں ہر اک گل کے کان میںمقدور ہو جو بلبل گل زار کے لیے
گل ہائے زخم سے ہوں شہادت طلب نہالتوفیق خیر ہو تری تلوار کے لیے
اندھیر ہے جو دم کی نہ اس کے ہو روشنییوسف مرا چراغ ہے بازار کے لیے
احساں جو ابتدا سے ہے آتش وہی ہے آجکچھ انتہا نہیں کرم یار کے لیے
۸۸ / ۱۰۵