نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے

پہنا ہے جب سے تو نے شب ماہ میں اسےکیا کیا شگوفے پھولتے ہیں ہار کے لیے

About this couplet

This is couplet 30 of 36 in “⁨نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے⁩” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (⁨کلامِ آتش⁩).

Read it in the poem

۳۰ / ۳۶