کلامِ آتشردیف ے

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہے

۱

مگر اس کو فریب نرگس مستانہ آتا ہےالٹتی ہیں صفیں گردش میں جب پیمانہ آتا ہے

۲

نہایت دل کو ہے مرغوب بوسہ خال مشکیں کادہن تک اپنے کب تک دیکھیے یہ دانہ آتا ہے

۳

خوشی سے اپنی رسوائی گوارا ہو نہیں سکتیگریباں پھاڑتا ہے تنگ جب دیوانہ آتا ہے

۴

فراق یار میں دل پر نہیں معلوم کیا گزریجو اشک آنکھوں میں آتا ہے سو بیتابانہ آتا ہے

۵

بگولے کی طرح کس کس خوشی سے خاک اڑاتا ہوںتلاش گنج میں جو سامنے ویرانہ آتا ہے

۶

سمجھتے ہیں مرے دل کی وہ کیا نافہم و ناداں ہیںحضور شمع بے مطلب نہیں پروانہ آتا ہے

۷

طلب دنیا کو کر کے زن مریدی ہو نہیں سکتیخیال آبروئے ہمت مردانہ آتا ہے

۸

ہمیشہ فکر سے یاں عاشقانہ شعر ڈھلتے ہیںزباں کو اپنی بس اک حسن کا افسانہ آتا ہے

۹

تماشا گاہ ہستی میں عدم کا دھیان ہے کس کوکسے اس انجمن میں یاد خلوت خانہ آتا ہے

۱۰

صبا کی طرح ہر اک غیرت گل سے ہیں لگ چلتےمحبت ہے سرشت اپنی ہمیں یارانہ آتا ہے

۱۱

زیارت ہوگی کعبہ کی یہی تعبیر ہے اس کیکئی شب سے ہمارے خواب میں بت خانہ آتا ہے

۱۲

خیال آیا ہے آئینہ کا منہ اس میں وہ دیکھیں گےاب الجھے بال سکھانے کی خاطر شانہ آتا ہے

۱۳

پھنسا دیتا ہے مرغ دل کو دام زلف پیچاں میںتمہارے خال رخ کو بھی فریب دانہ آتا ہے

۱۴

عتاب و لطف جو فرماؤ ہر صورت سے راضی ہیںشکایت سے نہیں واقف ہمیں شکرانہ آتا ہے

۱۵

خدا کا گھر ہے بت خانہ ہمارا دل نہیں آتشؔمقام آشنا ہے یاں نہیں بیگانہ آتا ہے

۹۰ / ۱۰۵