کلامِ آتشردیف ے

لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالے

۱

لخت جگر کو کیونکر مژگان تر سنبھالےیہ شاخ وہ نہیں جو بار ثمر سنبھالے

۲

دیوانہ ہو کے کوئی پھاڑا کرے گریباںممکن نہیں کہ دامن وہ بے خبر سنبھالے

۳

تلوار کھینچ کر وہ خوں خوار ہے یہ کہتامنہ پر جو کھاتے ڈرتا ہو وہ سپر سنبھالے

۴

تکیے میں آدمی کو لازم کفن ہے رکھنابیٹھا رہے مسافر رخت سفر سنبھالے

۵

یک دم نہ نبھنے دیتی ان کی تنک مزاجیرکھتے نہ ہم طبیعت اپنی اگر سنبھالے

۶

وہ نخل خشک ہوں میں اس گلشن جہاں میںپھرتا ہے باغباں بھی مجھ پر تبر سنبھالے

۷

ہر گام پر خوشی سے وارفتگی سی ہوگیلانا جواب خط کو اے نامہ بر سنبھالے

۸

یا پھر کتر پر اس کے صیاد یا چھری پھیربے بال و پر نے تیرے پھر بال و پر سنبھالے

۹

درد فراق آتشؔ تڑپا رہا ہے ہم کواک ہاتھ دل سنبھالے ہے اک جگر سنبھالے

۹۱ / ۱۰۵