کلامِ آتشردیف ے

موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھے

۱

موت مانگوں تو رہے آرزوئے خواب مجھےڈوبنے جاؤں تو دریا ملے پایاب مجھے

۲

میری ایذا کے لئے مردے میں جان آتی ہےکاٹنے دوڑتی ہے ماہیٔ بے آب مجھے

۳

دہن گرگ سے جیتا جو بچوں صحرا میںذبح کرنے کے لیے مول لے قصاب مجھے

۴

ہوں تصور میں صفائے بدن یار کے غرقحلقۂ ناف ہوا حلقۂ گرداب مجھے

۵

مردم دیدۂ قربانی ہوں میں دیوانہآئے دروازہ کھلے بن نہ کبھی خواب مجھے

۶

اے فلک رہنے دے عریاں ہی پس از مرگ بھی توسونپتا کیا ہے کفن دزد کا اسباب مجھے

۷

نہیں رکھتے ہیں امیری کی ہوس مرد فقیرشیر کی کھال ہی ہے قاقم و سنجاب مجھے

۸

جوش سے اشکوں کے پھر جائے گا سر پر پانیکھینچ لے جائے گا دریا میں یہ سیلاب مجھے

۹

دیر و کعبہ میں ان آنکھوں سے نہیں حلقۂ درکوئی ابرو سے دکھاتا نہیں محراب مجھے

۱۰

فرقت یار میں کرتی ہے قیامت برپاروز محشر سے نہیں کم شب مہتاب مجھے

۱۱

مرض عشق سے بچ جاؤں جو تم دلوا دوصدقہ اپنے لب جاں بخش کا عناب مجھے

۱۲

چین لینے نہ دیا درد جدائی نے کبھیکب میں سویا کہ جگایا نہیں بد خواب مجھے

۱۳

نہیں بھولا ہے جنوں میں وہ حواس اڑ جانایاد ہے برہمیٔ صحبت احباب مجھے

۱۴

نام کو میرے بھی احباب میں اپنے لکھےذرہ سمجھا رہے وہ مہر جہاں تاب مجھے

۱۵

دل غنی چاہئے گو ہوں میں فقیر اے آتشؔشیر کی کھال ہی ہے قاقم و سنجاب مجھے

۹۹ / ۱۰۵