کلامِ آتشردیف ے
عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہے
عارف ہے وہ جو حسن کا جویا جہاں میں ہےباہر نہیں ہے یوسف اسی کارواں میں ہے
پیری میں شغل مے ہے جوانانہ روز و شببوئے بہار آتی ہماری خزاں میں ہے
ہوتا ہے گل کے سونگھے سے دونا گرفتہ دلمجھ سا بھی بد دماغ کم اس بوستاں میں ہے
پشت خمیدہ دیکھ کے ہوتا ہوں نعرہ زنکرتا ہوں صرف تیر جو زور اس کماں میں ہے
دکھلا رہی ہے دل کی صفا دو جہاں کی سیرکیا آئینہ لگا ہوا اپنے مکاں میں ہے
دیوانہ جو نہ عشق سے ہو آدمی نہیںحسن پری کا جلوہ طلسم جہاں میں ہے
پروانوں کی طرح ہے ہجوم قدح کشاںروشن چراغ بادہ جو مغ کی دکاں میں ہے
اس دل ربا کے کوچہ میں آگے ہوا سے جائےاتنی تو جان اب بھی تن ناتواں میں ہے
دنیا سے کوچ کرنا ہے اک روز رہرووبانگ جرس سے شور یہی کارواں میں ہے
پڑھ سکتا سر نوشت کا مطلب کوئی نہیںمعلوم کچھ نہیں کہ یہ خط کس زباں میں ہے
آئندہ و روندہ کی چلتی ہیں ٹھوکریںجادہ جو اپنا تھا اسی خواب گراں میں ہے
کشتے ہیں باغ میں بھی تری تیغ ناز کےبوئے شہید لالہ میں اور ارغواں میں ہے
عاشق کے رنگ زرد کو دیکھو تو ہنس پڑوتاثیر اس میں بھی ہے وہ جو زعفراں میں ہے
معدوم وہ کمر ہے نہ موہوم وہ دہنکہتے ہیں شاعر ان کے جو کچھ کچھ گماں میں ہے
گل ٹوٹتے ہیں ہوتے ہیں بلبل اسیر دامصیاد مستعد مدد باغباں میں ہے
سرکش کی منزلت ہے سبک پیش خاکساروہ تمکنت زمیں کی کہاں آسماں میں ہے
سنبل سے حال گل ہوں میں یہ کہہ کے پوچھتاکس سلسلہ میں تو ہے یہ کس خانداں میں ہے
دل میں خیال گیسوئے مشکیں ہے بد بلایہ مرغ روح کے لیے سانپ آشیاں میں ہے
حکمت سے ہے یہ خاک کا پتلا بنا ہوانور آنکھ میں ہے اس کے تو مغز استخواں میں ہے
آتشؔ بلند پایہ ہے درگاہ یار کیہفتم فلک کی رفعت اسی آستاں میں ہے
۹۸ / ۱۰۵