کلامِ آتشردیف ے
یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہے
یہ کس رشک مسیحا کا مکاں ہےزمیں یاں کی چہارم آسماں ہے
خدا پنہاں ہے عالم آشکارانہاں ہے گنج ویرانہ عیاں ہے
دل روشن ہے روشن گر کی منزلیہ آئینہ سکندر کا مکاں ہے
تکلف سے بری ہے حسن ذاتیقبائے گل میں گل بوٹا کہاں ہے
پسیجے گا کبھی تو دل کسی کاہمیشہ اپنی آہوں کا دھواں ہے
برنگ بو ہوں گلشن میں میں بلبلبغل غنچے کے میرا آشیاں ہے
شگفتہ رہتی ہے خاطر ہمیشہقناعت بھی بہار بے خزاں ہے
چمن کی سیر پر ہوتا ہے جھگڑاکمر میری ہے دست باغباں ہے
بہت آتا ہے یاد اے صبر مسکیںخدا خوش رکھے تجھ کو تو جہاں ہے
الٰہی ایک دل کس کس کو دوں میںہزاروں بت ہیں یاں ہندوستاں ہے
یقیں ہوتا ہے خوشبوئی سے اس کےکسی گل رو کا غنچہ عطرداں ہے
وطن میں اپنے اہل شوق کی طرحسفر میں روز و شب ریگ رواں ہے
سحر ہووے کہیں شبنم کرے کوچگل و بلبل کا دریا درمیاں ہے
سعادت مند قسمت پر ہیں شاکرہما کو مغز بادام استخواں ہے
دل بے تاب جو اس میں گرے ہیںذقن جاناں کا پارہ کا کنواں ہے
جرس کے ساتھ دل رہتے ہیں نالاںمرے یوسف کا عاشق کارواں ہے
نہ کہہ رندوں کو حرف سخت واعظدرشت اہل جہنم کی زباں ہے
قد محبوب کو شاعر کہیں سروقیامت کا یہ اے آتشؔ نشاں ہے
۱۰۱ / ۱۰۵