کلامِ آتشردیف ے
یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئے
یا علی کہہ کر بت پندار توڑا چاہئےنفس امارہ کی گردن کو مروڑا چاہئے
تنگ آ کر جسم کو اے روح چھوڑا چاہئےطفل طبعوں کے لیے مٹی کا گھوڑا چاہئے
زلف کے سودے میں اپنے سر کو پھوڑا چاہئےجب بلا کا سامنا ہو منہ نہ موڑا چاہئے
گھورتی ہے تم کو نرگس آنکھ پھوڑا چاہئےگل بہت ہنستے ہیں کان ان کے مروڑا چاہئے
آج کل ہوتا ہے اپنا عشق پنہاں آشکارپک چکا ہے خوب اب پھوٹے یہ پھوڑا چاہئے
مانگتا ہوں میں خدا سے اپنے دل سے داغ عشقبادشاہ حسن کے سکے کا توڑا چاہئے
ان لبوں کے عشق نے ہے جیسے دیوانہ کیابڑ اپنی ہے اک لالوں کا جوڑا چاہئے
دے رہا ہے گیسوئے مشکین سودے کو جگہکس کے آگے جا کے اپنے سر کو پھوڑا چاہئے
بادۂ گلگوں کے شیشہ کا ہوں سائل ساقیاساتھ کیفیت کے اڑتا مجھ کو گھوڑا چاہئے
یہ صدا آتی ہے رفتار سمند عمر سےوہ بھی گھوڑا ہے کوئی جس کو کہ کوڑا چاہئے
قطع مقراض خموشی سے زباں کو کیجئےقفل دے کر گنج پر مفتاح توڑا چاہئے
اپنے دیوانہ کا دل لے کر یہ کہتا ہے وہ طفلیہ کھلونا ہے اسی قابل کہ توڑا چاہئے
زلفیں روئے یار پر بے وجہ لہراتی نہیںکچھ نہ کچھ زہر اگلے یہ کالے کا جوڑا چاہئے
باغباں سے چھپ کے گل چینی جو کی تو کیا کیاآنکھ بلبل کی بچا کر پھول توڑا چاہئے
فصل گل میں بیڑیاں کاٹی ہیں میرے پاؤں کیہاتھ میں حداد کے سونے کا توڑا چاہئے
باغ عالم میں یہی میری دعا ہے روز و شبخار خار عشق گل رخسار توڑا چاہئے
عشق کی مشکل پسندی سے ہوا یہ آشکارخوب صورت کو غرور حسن تھوڑا چاہئے
زمزمے سن کر مرے صیاد گل رو نے کہاذبح کیجے ایسے بلبل کو نہ چھوڑا چاہئے
پیر ہو آتشؔ کفن کا سامنا ہے عن قریبتوبہ کیجے دامن تر کو نچوڑا چاہئے
۱۰۲ / ۱۰۵