کلامِ آتشردیف د
مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید
۱
مئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفیدچشم بدبیں کو کرے گردش ایام سفید
۲
بسکہ اس بت کی طبیعت ہے زمانے سے خلافصبح پوشاک سیہ ہے تو سر شام سفید
۳
کون سی شام نہیں صبح ہوئی اے مغرورایک دن ہوتی ہے یہ زلف سیہ فام سفید
۴
قطرۂ اشک میں سرخی کا کہیں نام نہیںلہو تیرا بھی ہوا اے دل ناکام سفید
۵
دل کی تسکیں کو میں پیغام صفا کا سمجھوںپرزہ کاغذ کا جو بھیجے وہ گل اندام سفید
۶
چاندنی رات میں وہ ماہ جو یاد آتا ہےکاٹنے دوڑتے ہیں مجھ کو در و بام سفید
۷
وصل کی شب جو ہوئی صبح یکایک تو ہوامیں ادھر زرد ادھر روئے دلارام سفید
۸
نسبت اس فتنۂ دوراں سے کوئی اندھا دےیار کی آنکھ سیہ دیدۂ بادام سفید
۹
کسی حالت میں نہیں فکر سے دشمن غافلآفت مرغ ہے رنگین ہو بادام سفید
۱۰
بس ہے اتنی ہی زمانہ کی دو رنگی آتشؔمئے گل رنگ سے لبریز رہیں جام سفید
۴۴ / ۱۰۵