کلامِ آتشردیف خ

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخ

۱

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رخخال مشکیں دل فرعوں ید بیضا ہے وہ رخ

۲

نور جو اس میں ہے خورشید میں وہ نور کہاںیہ اگر حسن کا چشمہ ہے تو دریا ہے وہ رخ

۳

پھوٹے وہ آنکھ جو دیکھے نگہ بد سے اسےآئینہ سے دل عارف کے مصفا ہے وہ رخ

۴

بزم عالم ہے توجہ سے اسی کے آبادشہر ویراں ہے اگر جانب صحرا ہے وہ رخ

۵

سامری چشم فسوں گر کی فسوں سازی سےلب جاں بخش کے ہونے سے مسیحا ہے وہ رخ

۶

دم نظارہ لڑے مرتے ہیں عاشق اس پردولت حسن کے پیش آنے سے دنیا ہے وہ رخ

۷

سایہ کرتے ہیں ہما اڑ کے پروں سے اپنےتیرے رخسار سے دلچسپ ہو عنقا ہے وہ رخ

۸

گل غلط لالہ غلط مہر غلط ماہ غلطکوئی ثانی نہیں لا ثانی ہے یکتا ہے وہ رخ

۹

کون سا اس میں تکلف نہیں پاتے ہر چندنہ مرصع نہ مذہب نہ مطلا ہے وہ رخ

۱۰

خال ہندو ہیں پرستش کے لیے آئے ہیںپتلیاں آنکھوں کی دو بت ہیں کلیسا ہے وہ رخ

۱۱

کون سا دل ہے جو دیوانہ نہیں ہے اس کاخط شب رنگ سے سرمایۂ سودا ہے وہ رخ

۱۲

اس کے دیدار کی کیوں کر نہ ہوں آنکھیں مشتاقدل ربا شے ہے عجب صورت زیبا ہے وہ رخ

۱۳

تا کجا شرح کروں حسن کے اس کے آتشؔمہر ہے ماہ ہے جو کچھ ہے تماشا ہے وہ رخ

۴۳ / ۱۰۵