کلامِ آتشردیف م

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

۱

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلومنہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم

۲

مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلومخدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم

۳

اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کےبہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم

۴

یہ اشتیاق شہادت میں محو تھا دم قتللگے ہیں زخم بدن پر کہاں نہیں معلوم

۵

سنا جو ذکر الٰہی تو اس صنم نے کہاعیاں کو جانتے ہیں ہم نہاں نہیں معلوم

۶

کیا ہے کس نے طریق سلوک سے آگاہمرید کس کا ہے پیر مغاں نہیں معلوم

۷

مری طرح تو نہیں اس کو عشق کا آزاریہ زرد رہتی ہے کیوں زعفراں نہیں معلوم

۸

جہان و کار جہاں سے ہوں بے خبر میں مستزمیں کدھر ہے کہاں آسماں نہیں معلوم

۹

سپرد کس کے مرے بعد ہو امانت عشقاٹھائے کون یہ نار گراں نہیں معلوم

۱۰

خموش ایسا ہوا ہوں میں کم دماغی سےدہن میں ہے کہ نہیں ہے زباں نہیں معلوم

۱۱

مری تمہاری محبت ہے شہرۂ آفاقکسے حقیقت ماہ و کتاں نہیں معلوم

۱۲

کس آئینہ میں نہیں جلوہ گر تری تمثالتجھے سمجھتے ہیں ہم این و آں نہیں معلوم

۱۳

ملا تھا خضر کو کس طرح چشمۂ حیواںہمیں تو یار کا اپنے دہاں نہیں معلوم

۱۴

کھلی ہے خانۂ صیاد میں ہماری آنکھقفس کو جانتے ہیں آشیاں نہیں معلوم

۱۵

طریق عشق میں دیوانہ وار پھرتا ہوںخبر گڑھے کی نہیں ہے کنواں نہیں معلوم

۱۶

جو ہو تو شوق ہی ہو کوئے یار کا ہادیکسی کو ورنہ سبیل جناں نہیں معلوم

۱۷

دہن میں آپ کے البتہ ہم کو حجت ہےکمر کا بھید جو پوچھوں میاں نہیں معلوم

۱۸

نسیم صبح نے کیسا یہ اس کو بھڑکایاہنوز آتش گل کا دھواں نہیں معلوم

۱۹

سنیں گے واقعہ اس کا زبان سوسن سےشہید کس کا ہے یہ ارغواں نہیں معلوم

۲۰

کنار آب چلے دور جام یا لب کشتشکار ہووے بط مے کہاں نہیں معلوم

۲۱

رسائی جس کی نہیں اے صنم در دل تکیقیں ہے اس کو ترا آستاں نہیں معلوم

۲۲

عجب نہیں ہے جو اہل سخن ہوں گوشہ نشیںکسی دہن میں زباں کا مکاں نہیں معلوم

۲۳

چھٹیں گے زیست کے پھندے سے کس دن اے آتشؔجنازہ ہوگا کب اپنا رواں نہیں معلوم

۵۲ / ۱۰۵