کلامِ آتشردیف م

غیرت مہر رشک ماہ ہو تم

۱

غیرت مہر رشک ماہ ہو تمخوب صورت ہو بادشاہ ہو تم

۲

جس نے دیکھا تمہیں وہ مر ہی گیاحسن سے تیغ بے پناہ ہو تم

۳

کیوں کر آنکھیں نہ ہم کو دکھلاؤکیسے خوش چشم خوش نگاہ ہو تم

۴

حسن میں آپ کے ہے شان خداعشق بازوں کے سجدہ گاہ ہو تم

۵

ہر لباس آپ کو ہے زیبندہجامہ زیبوں کے بادشاہ ہو تم

۶

فوق ہے سارے خوش جمالوں پروہ ستارے جو ہیں تو ماہ ہو تم

۷

ہم سے پردہ وہی حجاب کا ہےکوچہ گردوں سے رو براہ ہو تم

۸

کیوں محبت بڑھائی تھی تم سےہم گناہ گار بے گناہ ہو تم

۹

جو کہ حق وفا بجا لائےشاہد اللہ ہے گواہ ہو تم

۱۰

ہے تمہارا خیال پیش نظرجس طرف جائیں سد راہ ہو تم

۱۱

دونوں بندے اسی کے ہیں آتشؔخواہ ہم اس میں ہوویں خواہ ہو تم

۵۱ / ۱۰۵