دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں

سو بار گل کو اس نے تلووں تلے ملا ہےکٹوا کے سرو شمشاد اکثر جلا دیے ہیں

About this couplet

This is couplet 4 of 14 in “⁨دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (⁨کلامِ آتش⁩).

Read it in the poem

۴ / ۱۴