کلامِ آتشردیف ن
دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیں
دیوانگی نے کیا کیا عالم دکھا دیے ہیںپریوں نے کھڑکیوں کے پردے اٹھا دیے ہیں
اللہ رے فروغ اس رخسار آتشیں کاشمعوں کے رنگ مثل کافور اڑا دیے ہیں
آتش نفس ہوا ہے گل زار کی ہمارےبجلی گری ہے غنچے جب مسکرا دیے ہیں
سو بار گل کو اس نے تلووں تلے ملا ہےکٹوا کے سرو شمشاد اکثر جلا دیے ہیں
انسان خوبرو سے باقی رہے تفاوتاس واسطے پری کو دو پر لگا دیے ہیں
ابروئے کج سے خون عشاق کیا عجب ہےتلوار نے نشان لشکر مٹا دیے ہیں
کس کس کو خوب کہئے اللہ نے بتوں کوکیا گوش و چشم کیا لب کیا دست و پا دیے ہیں
بے یار بام پر جو وحشت میں چڑھ گیا ہوںپرنالے روتے روتے میں نے بہا دیے ہیں
وصف کمان ابرو جو کیجیے سو کم ہےبے تیر بسملوں کے تودے لگا دیے ہیں
رویا ہوں یاد کر کے میں تیری تند خوئیصرصر نے جب چراغ روشن بجھا دیے ہیں
سوز دل و جگر کی شدت پھر آج کل ہےپھر پہلوؤں کے تکیے مشعل بنا دیے ہیں
شمعوں کو تو نے دل سے پروانوں کے اتاراآنکھوں سے بلبلوں کی گلشن گرا دیے ہیں
وہ بادہ کش ہوں میری آواز پا کو سن کرشیشوں نے سر حضور ساغر جھکا دیے ہیں
اشکوں سے خانۂ تن آتشؔ خراب ہوگاقصر سپہر رفعت باراں نے ڈھا دیے ہیں
۵۵ / ۱۰۵