برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں

اے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیاچاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں

About this couplet

This is couplet 4 of 9 in “⁨برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں⁩” in the section Ghazals — Radeef Noon, from Khwaja Haidar Ali Atish's Urdu book Kalam-e-Atish (⁨کلامِ آتش⁩).

Read it in the poem

۴ / ۹