کلامِ آتشردیف ن

برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاں

۱

برق کو اس پر عبث گرنے کی ہیں تیاریاںبرگ گل ہی آشیاں کو اپنے ہے چنگاریاں

۲

عہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاجبیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں

۳

موت کے آتے ہی ہم کو خود بخود نیند آ گئیکیا اسی کی یاد میں کرتے تھے شب بیداریاں

۴

اے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیاچاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں

۵

خندۂ گل سے صدائے نالہ آتی ہے مجھےخون بلبل سے مگر سینچی گئی ہیں کیاریاں

۶

خاک کا پتلا بھی آہن سے ہے سختی میں فزوںجسم پر انساں کے تلواریں ہوئی ہیں آریاں

۷

خوف خالق ہے وگرنہ محتسب کیا مال ہےخانۂ قاضی میں جا کر کیجئے مے خواریاں

۸

کچھ ہمیں خالی نہیں کرتے ہیں یہ دیر خرابپھر گئے ہیں یار یوں ہی اپنی اپنی باریاں

۹

حکم کر آتشؔ کہ بازار محبت بند ہواب کریں ٹٹپوجئے گرم اپنی دوکاں داریاں

۵۸ / ۱۰۵